نئی دہلی،29؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے سامان اورسروس ٹیکس (جی ایس ٹی)کے نفاذ کو ٹالنے کی مانگ کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین ہمیں ملک کی اس سب سے بڑے اقتصادی بحالی میں 6 ماہ سے زیادہ تاخیر کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نیا نظام مکمل طور پر تیار ہے۔اس عمل کے بعد یہ اپنے آپ آسان ہو جائے گا۔یہ نظام درجن بھر سے زیادہ ریاستی سطح کے ٹیکس اور مرکزی ٹیکس کو ختم کر دے گا،ساتھ ہی ملک کی 29ریاستوں کے درمیان کاروبار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گی۔تاجروں کو نئے نظام میں منتقلی کے لئے کافی وقت نہیں دئے جانے پر ترنمول کانگریس اس کی مخالفت میں ہیں۔جی ایس ٹی شروع ہونے کے موقع پر 30جون کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں حصہ نہیں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔اگرچہ، جیٹلی نے کہا کہ جو لوگ اس پر عمل کرنے کو 6 ماہ ٹالنے کی بات کر رہے ہیں، یہ آئین کے نقطہ نظر سے ناممکن ہے۔جی ایس ٹی کے لئے کی گئی آئینی ترمیم اسے کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔
وہیں جی ایس ٹی کی اعلی شرح اور اس پیچیدہ قوانین کو لے کر دہلی کے تاجروں کی مخالفت تیز ہو گئی ہے۔کاروباریوں کی تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ اڈسٹری(سی ٹی آئی)نے 30جون کو ’’دہلی بند‘‘کی اپیل کی ہے۔بتا دیں کہ بدھ کو کناٹ پلیس میں سی ٹی آئی کی جانب سے ایک بڑی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔میٹنگ میں دہلی کی تقریبا 50ٹریڈ ایسوسی ایشن نے حصہ لیا اور تمام تاجروں نے جی ایس ٹی کی اعلی شرح اور پیچیدہ قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے متفقہ طور پر 30جون کو دہلی بند کرنے کا فیصلہ کیا۔دہلی کی تقریبا 25ٹریڈ ایسوسی ایشن نے 30جون کو دہلی بند کی حمایت کی ہے۔